ایس آر اے سائیں جی ایم سید کی ۱۱۶ ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں قومی اور انقلابی سلام پیش کرتی ہے

0
190

(17 january 2020)

سندھودیش روولیوشنری آرمی کے ترجمان سوڈھو سندھی نے رہبر سندھ سائیں جی ایم سید کی ۱۱۶ ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں قومی اور انقلابی سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سائیں جی ایم سید سندھ کے ایک ایسے عظیم قومی ر ہبر اور مفکرتھے، جنہوں نے جدید ترقی پسند،لبرل، سیکیولرـ اور ڈیموکرٹک بنیادوں پر ’جدید سندھی قومپرستی‘  کا نظریہ پیش کیا۔جس نظرئے کے تحت سندھ میں قومی حقوق اور قومی آزادی کی جدوجہد چلانے کے لیئے ایک متحرک قومی تحریک وجود میں آئی۔

سائیں جی ایم سید نے اپنے قومی فکر کے ذریعے سندھ کی ہزارہاسالہ تاریخ کی روشنی میں سندھی قوم کو اپنی الگ شناخت، الگ قومی ثقافت، کلچر،زبان،روایات  اور قومی ہیروز کو  نروار کرکے متعارف کروایا۔

سائیں جی ایم سید کا قومی فکر سندھ وطن کے اوپر پنجابی حملہ آور سمیت ہر بیرونی حملہ آور قوت کے خلاف اپنی ’قومی دفائی مزاحمتی جدوجہد‘ کرنے کی رہنمائی کرتا ہے۔جس کے ذریعے ہم ناصرف سندھ وطن کی جغرافیائی تحفظ اور سرحدوں کا قومی دفاع کر سکتے ہیں بلکہ سندھ کے قومی مفادات کوبھی بچا سکتے ہیں۔۱۹۴۷ع میں پاکستان کے نام پر ایک نقلی، مصنوئی اور مذہبی ریاست بنوائی گئی جس کے ذریعے پنجاب سامراج سندھ کی زمین،سندھو دریاء، سندھی سمندرو ساحل، سمندری جزیروں، بندرگاہوں، جہازرانی کی آمدنی،کاروباری شاہراہوں و مراکز، تیل،گئس، کوئلے،ٹیکسز اورسروسزسمیت سندھ کی تمام معاشی و قدرتی وسائل کا استحصال جاری رکھا ہواہے۔

آج  سندھ ایک طرف پاکستان کے بنائی ہوئی جمائت الدعوہ جیسی کئی مذہبی انتہاپسندتنظیموں کی دہشگردی کو بھگت رہی ہے تو دوسری جانب پاکستان آرمی اور پنجابیوں کے فوجی ادارے بہت بڑی تیزی سے سندھ کے اوپر حملہ آورہو کر سندھ کے سارے سمندری علائقوں پر بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچھ اے،ذولفقارآباد جیسے کئی منصوبوں کے ذریعے سندھ کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرکے سندھی قوم کو اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کررہے ہیں۔جس سے سندھ کا قومی وجود صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا خطرہ ہے اور سندھی قوم اپنی ہی سرزمین کی مالکی کاحق کھو بیٹھے گی۔

چائنا۔پاکستان اکانامک کاریڈور (سیپیک) منصوبے کے بعد اب  ’چین اور پنجابی حملہ آور سامراج‘  دونوں مل کر سندھ کی تمام اسٹرٹجک پوائنٹس پر قبضہ کررہے ہیں۔جس کو ہم سندھ کے اوپر ’پنجاب اور چین‘ کا مشترکہ حملہ قرار دیتے ہیں۔

سندھی قوم اپنے وطن کے سامنے درپیش ان تمام خطرات اور حملوں سے صرف سائیں جی ایم سید کے ہی قومی آزادی والے فکر سے مسلح ہوکر مقابلہ کر سکتی ہے اور رہبر سندھ سائیں جی ایم سید کے فکر کی روشنی میں اپنے وطن سندھ کی آزادی کے مشن کو پایہ ء تکمیل تک پہنچا سکتی ہے۔

سائیں جی ایم سید کی سالگرہ کے موقع پر سندھودیش روولیوشنری آرمی سندھ کی مکمل آزادی تک قومی مزاحمتی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہراتی ہے’’۔

(سوڈھو دسندھی (ترجمان

(سندھودیش روولیوشنری آرمی(ایس آراے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here